Maarif-e-Ism-e-Muhammad ﷺ istqamt
When tawḥīd is kindled in the heart of a person
🔹 اِحرام باندھنے کا طریقہ کیا ہے اور مرد اور عورت کے اِحرام میں کیا فرق ہے؟
economy and the economic options for Pakistan
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اَلْقَوْلُ السَّوِيِّ فِي رَدِّ الشَّمْسِ لِعَلِيِّ علیه السلام کے عنوان سے لکھی گئی اِس کتاب میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے لیے سورج کے پلٹائے جانے کے واقعے پر اِنتہائی شرح و بسط کے ساتھ تحقیق کی ہے اور اس موضوع پر کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ اس کتاب کے آغاز میں ردِ شمس کے حوالے سے وارِد ہونے والی مختلف روایات مفصل تحقیق و تخریج کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔ اِس کے بعد محدثین کرام کے ہاں حدیثِ ردّ شمس کے اِستناد اور حجیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ نیز رسول ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے اِس حدیث کے راویوں کی فہرست بھی درج کی ہے۔ اِس کتاب میں صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی سے نہیں بلکہ اپنی اپنی تالیفات میں اِس حدیث کو روایت کرنے والے اَئمہ و محدثین کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ بعد ازاں اِس حدیثِ مبارک کے طُرُق کی تحقیق اور اس کے راویوں کا حال بھی بیان کیا ہے۔ آخرِ کتاب میں اِس حدیث کی اُنیس (19) اَسانید پر مفصل تحقیق درج کرتے ہوئے اِس کے رُواۃ پر جرح و تعدیل کی گئی ہے۔ یوں اس حدیثِ مبارک کی استنادی حیثیت کو واضح کیا ہے۔
the world economies have turned to—advocating self-restraint and abstinence instead of amplifying taxes
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مصطفوی معاشرے کے قیام کی جِدّ و جُہد کے سات مرکزی کردار (7 میمز) کو اہم قرار دیا ہے۔ جن کی اصلاح اور تربیت نہایت ضروری ہے:
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دورِ جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام و خواص دونوں کی علمی و فکری رہنمائی اور عقیدہ و عمل کی پختگی کے لیے احادیث مبارکہ سے خوب استفادہ کیا اور 100 کے قریب چھوٹے بڑے مجموعہ ہائے احادیث مرتب کیے۔ زیرِ نظر اربعین ’’روایت حدیث میں اسناد کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر 41 احادیث جمع کی گئی ہیں۔
🔹 کیا رُوحانی ترقی کے راستے پر چلنا ترکِ دنیا ہے؟
Pakistan: MQI Publications (Sales & Marketing)
there is a whole line of chronological events mentioned in The-Hadith
🔹 ایمان باللہ کی معرفت اور اس کے واجبات
All sources are meticulously referenced in Dr Tahir-ul-Qadri’s characteristic style